حدیث نمبر: 142
142 صحيح
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لئے مسواک کا حکم دے دیتا۔
حدیث نمبر: 143
143 صحيح حديث أَبِي مُوسى قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ، يَقُولُ: أُعْ أُعْ وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّهُ يَتَهَوَّعُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے مسواک کرتے ہوئے پایا اور آپ کے منہ سے اُع اُع کی آواز نکل رہی تھی اور مسواک آپ کے منہ میں تھی جس طرح آپ قے کر رہے ہوں۔
وضاحت:
اگر حلق کے اندر سے مسواک کی جائے تو اس قسم کی آواز نکلا کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت یہی کیفیت تھی۔ اس سے مراد مسواک کرنے میں مبالغہ ہے۔ (راز)
حدیث نمبر: 144
144 صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوص فَاهُ بِالسِّوَاكِ
مولانا داود راز
سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے۔