کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: منہ کو زیادہ دھونا اس قدر کہ سرکے سامنے کا حصہ بھی دھل جائے، اسی طرح ہاتھوں اور پاؤں کو کہنیوں اور ٹخنوں کے پار تک دھونا مستحب ہے
حدیث نمبر: 141
141 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارٍ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ارشاد فرما رہے تھے کہ میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والوں کی شکل میں بلائے جائیں گے۔ اس لیے تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے، وہ بڑھا لے۔ (یعنی وضو اچھی طرح کرے)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 141
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 3 باب فضل الوضوء، والغر المحجلون من آثار الوضوء»