کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: پورا پاؤں دھونا واجب ہے
حدیث نمبر: 139
139 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا، وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ، وَنَحْنُ نَتَوَضًّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک سفر میں جو ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں) کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے (وہ سفر مکہ سے مدینہ کا تھا) اور آپ ہم سے اس وقت ملے جب (عصر کی) نماز کا وقت آن پہنچا تھا ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے پس پاؤں کو خوب دھونے کی بجائے ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے (یہ حال دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا دیکھو ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں ہ بلند آواز سے) فرمایا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 139
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 3 باب من رفع صوته بالعلم»
حدیث نمبر: 140
140 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَمُرُّ وَالنَّاسُ يَتَوَضَّؤُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ؛ فَقَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ
مولانا داود راز
ایک دفعہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ گذرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو۔ کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
وضاحت:
منشا یہ ہے کہ وضو کا کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ورنہ وہی عضو قیامت کے دن عذاب الٰہی میں مبتلا کیا جائے گا۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 140
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 29 باب غسل الأعقاب»