کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ناک میں پانی ڈالنا اسی طرح استنجاء کرنا طاق مرتبہ بہتر ہے
حدیث نمبر: 137
137 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے۔ اور جو پتھر سے استنجا کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد (یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی) سے کرے۔
وضاحت:
مٹی کے ڈھیلے بھی پتھر ہی شمار ہوتے ہیں۔ بلکہ ان سے صفائی زیادہ ہوتی ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 137
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 25 باب الاستنثار في الوضوء»
حدیث نمبر: 138
138 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرَ ثَلاَثًا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص سو کر اٹھے اور پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے کیونکہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 138
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 11 باب صفة إبليس وجنوده»