کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول (وانذر عشیرتک الاقربین) کے بیان میں
حدیث نمبر: 123
123 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ) ، قَالَ: يَا مَعْشَرَ قرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مَنَ اللهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللهِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَلِيني مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ’’اور اپنے نزدیک ناطے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا۔‘‘ (الشعراء ۲۱۴) تو آپ نے یہ فرمایا قریش کے لوگو (یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ) تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو (نیک اعمال کے بدل) خرید لو (بچا لو) میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا (یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکتا) عبد مناف کے بیٹو میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ اے عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ صفیہ میری پھوپھی اللہ کے سامنے میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا اے فاطمہ میری بیٹی تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے میں تیرے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 123
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 55 كتاب الوصايا: 11 باب هل يدخل النساء والولد في الأقارب»
حدیث نمبر: 124
124 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ) وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتفَ: يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هذَا فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ هذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، قالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ)
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور اپنے گروہ کے ان لوگوں کو ڈراؤ جو مخلصین ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارا یا صبا حاہ قریش نے کہا یہ کون ہے پھر وہاں سے سب آ کر جمع ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں بتاؤں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کے پیچھے سے آنے والا ہے تو کیا تم مجھ کو سچا نہیں سمجھو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں جھوٹ کا آپ سے تجربہ کبھی بھی نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے آ رہا ہے یہ سن کر ابولہب بولا تو تباہ ہو کیا تو نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے اور آپ پر سورہ لہب نازل ہوئی دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ابولہب کے اور وہ برباد ہو گیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 124
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 111 سورة تبت يدا أبي لهب وتب: 1 باب حدثنا يوسف»