کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: اللہ جل جلالہ کو (قیامت کے دن) دیکھنا کس طرح ممکن ہے اس کی پہچان کا بیان
حدیث نمبر: 114
114 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّاس قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَهَلْ تمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَإِنَّكمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبدُ شَيْئًا فَلْيَتْبَعْهُ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الْقَمَر، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَى هذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ هذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ، فَيقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَدْعُوهُمْ، وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرَّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلاَّ الرُّسُلُ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَفِي جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ قَالُوا نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلاَّ اللهُ، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا أَرَادَ اللهُ رَحْمَةَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ اللهُ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ، فَيُخْرِجُونَهُمْ، وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّار، فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ؛ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ؛ ثُمَّ يَفْرُغُ اللهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولاً الْجَنَّةَ، مُقْبِلاً بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ، فَيَقُولُ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَقُولُ هَلْ عَسِيْتَ إِنْ فُعِلَ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي اللهَ مَا يَشَاءُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ؛ فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ بِهِ عَلَى الْجَنَّةِ رَأَى بَهْجَتَهَا، سَكَتَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللهُ لَهُ، أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ العُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لاَ أَكُونَنَّ أَشْقَى خَلْقِكَ؛ فَيَقُولُ فَمَا عَسِيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُ غَيْرَ ذَلِكَ؛ فَيعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاق، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَأَى زَهْرَتَهَا، وَمَا فِيهَا مَنَ النَّضْرَةِ والسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، فَيقُولُ يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللهُ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لاَ تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَيَضْحَكُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجنَّةِ، فَيَقُولُ تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مِنْ كَذَا وَكَذَا أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ؛ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللهُ تَعَالَى: لَكَ ذَلكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت میں دیکھ سکیں گے؟ آپ نے (جواب کے لئے) پوچھا کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے؟ لوگ بولے ہرگز نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا اور کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ پھر آپ نے فرمایا کہ رب العزت کو تم اسی طرح دیکھو گے لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو جسے پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے چنانچہ بہت سے لوگ سورج کے پیچھے ہو لیں گے بہت سے چاند کے اور بہت سے بتوں کے ساتھ ہو لیں گے یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں منافقین بھی ہوں گے پھر خداوند تعالیٰ ایک نئی صورت میں آئے گا اور ان سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ منافقین کہیں گے کہ ہم یہیں اپنے رب کے آنے تک کھڑے رہیں گے جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ عزوجل ان کے پاس (ایسی صورت میں جسے وہ پہچان لیں) آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ بھی کہیں گے کہ بے شک تو ہمارا رب ہے پھر اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھا جائے گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی امت کے ساتھ اس سے گذرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا اس روز سوائے انبیاء کے کوئی بات بھی نہ کر سکے گا اور انبیاء بھی صرف یہ کہیں گے اے اللہ مجھے محفوظ رکھیو اے اللہ مجھے محفوظ رکھیو اور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکس (آنکڑے) ہوں گے سعدان کے کانٹے تو تم نے دیکھے ہوں گے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ ہاں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تو وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ ان کے طول و عرض کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا یہ آنکس لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق کھینچ لیں گے بہت سے لوگ اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے بہت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ان کی نجات ہو گی جہنمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو ملائیکہ کو حکم دے گا کہ جو خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے تھے انہیں باہر نکال لو چنانچہ ان کو وہ باہر نکالیں گے اور موحدوں کو سجدے کے آثار سے پہچانیں گے اللہ تعالیٰ نے جہنم پر سجدہ کے آثار کا جلانا حرام کر دیا ہے چنانچہ یہ جب جہنم سے نکالے جائیں گے تو اثر سجدہ کے سوا ان کے جسم کے تمام ہی حصوں کو آگ جلا چکی ہو گی جب جہنم سے باہر ہوں گے تو بالکل جل چکے ہوں گے اس لئے ان پر آب حیات ڈالا جائے گا جس سے وہ اس طرح ابھر آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ پر سیلاب کے تھمنے کے بعد سبزہ ابھر آتا ہے پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا لیکن ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان اب بھی باقی رہ جائے گا یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری دوزخی شخص ہو گا اس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا اس لئے کہے گا کہ اے میرے رب میرے منہ کو دوزخ کی طرف سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبو مجھ کو مارے ڈالتی ہے اور اس کی چمک مجھے جلائے دیتی ہے خداوند تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر تیری یہ تمنا پوری کر دوں تو تو دوبارہ کوئی نیا سوال تو نہیں کرے گا؟ بندہ کہے گا نہیں تیری بزرگی کی قسم اور جیسے جیسے اللہ چاہے گا وہ قول و قرار کرے گا آخر اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے اس کا منہ پھیر دے گا جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور اس کی شادابی نظروں کے سامنے آئی تو اللہ نے جتنی دیر چاہا وہ چپ رہے گا لیکن پھر بول پڑے گا اے اللہ مجھے جنت کے دروازے کے قریب پہنچا دے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ اس ایک سوال کے سوا اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ بندہ کہے گا اے میرے رب مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بد نصیب نہ ہونا چاہیے اللہ رب العزت فرمائے گا کہ پھر کیا ضمانت ہے کہ اگر تیری یہ تمنا پوری کر دی گئی تو دوسرا کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ بندہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم اب کوئی دوسرا سوال تجھ سے نہیں کروں گا چنانچہ اپنے رب سے ہر طرح عہد و پیمان باندھے گا اور جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا دروازے پر پہنچ کر جب جنت کی پہنائی تازگی اور مسرتوں کو دیکھے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ بندہ چپ رہے گا لیکن آخر بول پڑے گا کہ اے اللہ مجھے جنت کے اندر پہنچا دے اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس اے ابن آدم تو ایسا دغا باز کیوں بن گیا؟ کیا (ابھی) تو نے عہد و پیماں نہیں باندھا تھا کہ جو کچھ مجھے دے دیا گیا اس سے زیادہ اور کچھ نہیں مانگوں گا؟ بندہ کہے گا اے رب مجھے اپنی سب سے زیادہ بد نصیب مخلوق نہ بنا اللہ تعالیٰ ہنس دے گا اور اسے جنت میں بھی داخلے کی اجازت عطا فرما دے گا اور پھر فرمائے گا مانگ کیا ہے تیری تمنا؟ چنانچہ وہ اپنی تمنائیں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) رکھے گا اور جب تمام تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں چیز اور مانگو فلاں چیز کا مزید سوال کرو خود اللہ تعالیٰ ہی یاد دہانی کرائے گا اور جب وہ تمام تمنائیں پوری ہو جائیں گی تو فرمائے گا کہ تمہیں یہ سب (بھی) اور اتنی ہی اور (بھی) دی گئیں۔
حدیث نمبر: 115
115 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: هَلْ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِذَا كَانَتْ صَحْوًا قُلْنَا لاَ قَالَ: فَإَنَّكُمْ لاَ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا ثُمَّ قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ: لِيَذْهَبْ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَيَذْهَبُ أَصْحَابُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَصْحَابُ الأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، وغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللهِ، فَقَالَ كَذَبْتُمْ، لَمْ يَكُنْ للهِ صَاحِبَةٌ وَلاَ وَلَدٌ، فَمَا تُرِيدُون [ص:45] قَالُوا نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ اشْرَبُوا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ فَيَقُولونَ كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللهِ، فَيُقَال كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ للهِ صَاحِبَةٌ وَلاَ وَلَدٌ، فَمَا تُرِيدُونَ فَيَقُولُونَ نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ اشْرَبُوا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ مَا يَحْبِسُكمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاس فَيَقولُونَ فَارَقْنَاهُمْ وَنَحْنُ أَحْوَجُ مِنَّا إِلَيْهِ الْيَوْمَ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي: لِيَلْحَقْ كلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ وَإِنَّمَا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا؛ قَالَ فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ، فِي صُورَةٍ غَيْرَ صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ؛ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُون أَنْتَ رَبُّنَا فَلاَ يُكَلِّمُهُ إِلاَّ الأَنْبِيَاءُ، فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَه آيةٌ تَعْرِفُونَهُ فَيَقُولُونَ السَّاقُ؛ فيَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ للهِ رِيَاءً وَسُمْعَةً؛ فَيَذْهَبُ كَيْما يَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وِاحِدًا، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجِسْمِ فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْجِسْرُ قَالَ مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ وَكَلاَلِيبُ، وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكَةٌ عُقَيْفَاءُ تَكُونُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ الْمُؤْمِنُ عَلَيْهَا كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدَ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَنَاجٍ مَخْدُوشٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا فَمَا أَنْتُمْ بَأَشَدَّ لِي مُنَاشَدَةً فِي الْحَقِّ قَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنَ الْمؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ لِلْجَبَّارِ فَإِذَا رَأَوْا أَنَهُمْ قَدْ نَجَوْا وَبَقِيَ إِخْوَانُهُمْ، يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا؛ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، وَيُحَرِّمُ اللهُ صُوَرَهمْ عَلَى النَّارِ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمِهِ وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفوا ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُم فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ فَأَخْرِجُوهُ؛ فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوافَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ؛ فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَءُوا (إِنَّ اللهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا) فَيَشْفَعُ النَّبِيُونَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ بَقِيَتْ شَفَاعَتِي، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ بِأَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ فِي حَافَتَيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَدْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ إِلَى جَانِبِ الشَّجَرَةِ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ، وَمَا كَان مِنْهًا إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ اللُّؤْلُؤُ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمِ الْخَوَاتِيمُ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ هؤُلاَءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمنِ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بَغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلاَ خَيْرٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان بھی صاف ہو؟ہم نے کہا کہ نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے رب کے دیدار میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پیش آئے گی جس طرح سورج اور چاند کو دیکھنے میں نہیں پیش آتی پھر آپ نے فرمایا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کرتی تھی چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ اور تمام جھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے (جیسے قبروں کے پجاری ان قبروں کے ساتھ تعزیے جھنڈے اور علم پوجنے والے ان کے ساتھ چلے جائیں گے) اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ان میں نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے پھر دوزخ ان کے سامنے پیش کی جائے گی وہ ایسی چمکدار ہو گی جیسے میدان کی ریت ہوتی ہے (جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے) پھر یہود سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کو پوچا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر بن اللہ کی پوجا کرتے تھے انہیں جواب ملے گا کہ تم جھوٹے ہو خدا کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی لڑکا تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے ان سے کہا جائے گا کہ پیو۔ وہ اس چمکتی ریت کی طرف پانی جان کر چلیں گے اور پھر وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے پھر نصاری سے کہا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح بن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو اللہ کی نہ بیوی تھی اور نہ کوئی بچہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانی سے ہمیں سیراب کیا جائے ان سے کہا جائے گا کہ پیو (ان کو بھی اس چمکتی ریت کی طرف چلایا جائے گا) اور انہیں بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ عبادت کرتے تھے نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لئے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا پھر پوچھے گا کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ ساق (پنڈلی) پھر اللہ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لئے سجدہ میں گر جائے گا صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لئے اسے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی پھر انہیں پل پر لایا جائے گا ہم نے پوچھا یارسول اللہ! پل کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک پھسلوان گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں آنکڑے ہیں چوڑے چوڑے کانٹے ہیں ان کے سر خمدار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں مومن اس پر پلک مارنے کی طرح بجلی کی طرح ہوا کی طرح تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گذر جائیں گے ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گذرے گا تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضا اور مطالبہ کریں گے۔ اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک اشرفی کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ چنانچہ پہچاننے والوں کو نکال لیں گے۔ سیّدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے (اس پر) کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہے تو اسے بڑھاتا ہے (النساء۴۰) پھر انبیاء اور مومنین اور فرشتے شفاعت کریں گے اور پروردگار کا ارشاد ہو گا کہ اب خاص میری شفاعت باقی رہ گئی ہے چنانچہ اللہ پاک دوزخ سے ایک مٹھی بھر لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو گئے ہوں گے پھر وہ جنت کے سرے پر ایک نہر میں ڈال دئیے جائیں گے جسے نہر آب حیات کہا جاتا ہے اور یہ لوگ اس کے کنارے سے اس طرح ابھریں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا تو جس پر دھوپ پڑتی رہتی ہے وہ سبز ابھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے موتی چمکتا ہے اس کے بعد ان کی گردنوں پر مہر کر دی جائیں گی (کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں) اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا اہل جنت انہیں ’’عتقاء الرحمن‘‘ (رحم کرنے والے اللہ کے آزاد کردہ بندے) کہیں گے انہیں اللہ نے بلا عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بلا خیر کے جو ان سے صادر ہوئی ہو جنت میں داخل کیا ہے اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی اور بھی ملے گا (یہ اس امت کے گنہگار بے عمل لوگ ہوں گے)