کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور نمازوں کا فرض ہونا
حدیث نمبر: 102
102 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ عَنْ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِيءٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ: نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: أَوَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ؛ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ، عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا آدَمُ، وَهذِهِ الأَسْوِدَةَ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ؛ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الأَوَّلُ؛ فَفَتَحَ قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّموَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعيسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ؛ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ قَالَ أَنَسٌ، فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ فَقُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا إِدْرِيسُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ؛ قُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبَا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ؛ [ص:36] قُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ؛ قُلْتُ: مَنْ هذَا قَالَ: هذَا إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَريفَ الأَقْلاَمِ، فَفَرَضَ اللهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَا فَرَضَ اللهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلاَةً، قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا؛ فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی اس وقت میں مکہ میں تھا پھر جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا اس کو میرے سینے میں رکھ دیا پھر سینے کو جوڑ دیا پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھولو اس نے پوچھا آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا ہاں میرے ساتھ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں انہوں نے پوچھا کہ کیا ان کے بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا جی ہاں پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے میں نے جبریل سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں اس لئے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں پھر جبریل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے داروغہ کی طرح پوچھا پھر کھول دیا سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر حضرات آدم ادریس موسیٰ عیسیٰ اور ابراہیم رضی اللہ عنہ کو موجود پایا اور سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانا بیان نہیں کیا البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان پر پایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جبریل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ادریس علیہ السلام پر گزرے تو انہوں نے فرمایا کہ آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریل نے بتایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا انہوں نے کہا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریل نے بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریل نے بتایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ پھر مجھے جبریل لے کر چڑھے اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی) پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں انہوں نے فرمایا آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے میں واپس بارگاہ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا پھر موسیٰ کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے پھر میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوا پھر ایک حصہ کم ہوا جب موسیٰ کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی پھر میں بار بار آیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں میری بات بدلی نہیں جاتی اب میں موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جاؤ لیکن میں نے کہا مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے پھر جبریل مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔
وضاحت:
سدرۃ المنتہیٰ سے مراد بیری کا وہ درخت ہے جو جنت کے کنارے پر ہے جہاں پر پہلے اور پچھلے لوگوں کا علم ختم ہو جاتا ہے اور کوئی اس کے آگے تجاوز نہیں کر سکتا۔ (مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 102
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 1 باب كيف فرضت الصلاة: في الإسراء»
حدیث نمبر: 103
103 صحيح حديث مالِكِ بْنِ صَعْصَعَة رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائمِ وَالْيَقْظَانِ، وَذَكَرَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُلِيءَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ، ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ مُلِيءَ حِكْمَةً [ص:37] وَإِيمَانًا، وَأُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ، الْبُرَاقُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيل حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قِيلَ مَنْ هذَا قَالَ: جِبْرِيلُ؛ قِيلَ: مَنْ مَعَكَ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ؛ قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ؛ فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ قِيلَ: مَنْ هذَا قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ قَالَ: مَحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ؛ فَأَتَيْتُ عَلَى عِيسَى وَيَحْيَى فَقَالاَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ قِيلَ: مَنْ هذَا قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ يُوسُفَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، قِيلَ: مَنْ هذَا قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلِيْهِ قِيلَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَرْحَبًا مِن أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، قِيلَ: مَنْ هذَا قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْنَا عَلَى هرُونَ، فَسَلَّمتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنا عَلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قِيلَ: مَنْ هذَا قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ المَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكَى، فَقِيلَ: مَا أَبْكَاكَ فَقَالَ: يَا رَبِّ هذَا الْغُلاَمُ الَّذِي بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَفْضَلُ مِمَّا يَدْخلُ مِنْ أُمَّتِي فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ، قِيلَ: مَنْ هذَا قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِيٍّ فَرُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: هذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، يَصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَعُودُوا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ وَرُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا كَأَنَّهُ قِلاَلُ هَجَرٍ وَوَرَقُهَا كَأَنَّهُ آذَانُ الْفُيُولِ، فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ، نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلاَةً، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جِئْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ قُلْتُ: فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلاَةً، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ، عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، وَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ، فَرَجَعْتُ فَسَأَلْتُهُ، فَجَعَلَهَا أَربَعِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ ثَلاَثِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ، فَجَعَلَ عِشْرِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ، فَجَعَلَ عَشرًا، فَأَتَيْتُ مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَجَعَلَهَا خَمْسًا، فَأَتَيْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ قُلْتُ: جَعَلَهَا خَمْسًا، فَقَالَ مِثْلَهُ، قُلْتُ: سَلَّمْتُ بِخَيْرٍ، فَنُودِيَ إِنِّي قَدْ أَمْضَيْت فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا
مولانا داود راز
سیّدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک دفعہ بیت اللہ کے قریب نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان لیٹے ہوئے ایک تیسرے آدمی کا ذکر فرمایا (پھر فرمایا) اس کے بعد میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھر پور تھا میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا پھر میرا پیٹ زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی سفید خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی یعنی براق میں اس پر سوار ہو کر جبریل علیہ السلام کے ساتھ چلا جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو پوچھا گیا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبریل پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں اس پر جواب آیا کہ اچھی کشادہ جگہ آنے والے کیا ہی مبارک ہیں پھر میں آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں سلام کیا انہوں نے فرمایا آؤ پیارے بیٹے اور اچھے نبی۔ اس کے بعد ہم دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی وہی سوال ہوا کون صاحب ہیں؟ کہا جبریل سوال ہوا آپ کے ساتھ کوئی اور صاحب بھی آئے ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سوال ہوا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں اب ادھر سے جواب آیا اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں آنے والے کیا ہی مبارک ہیں اس کے بعد میں عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام سے ملا ان حضرات نے بھی خوش آمدید مرحبا کہا اپنے بھائی اور نبی کو۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کون صاحب ہیں؟ جواب جبریل سوال ہوا آپ کے ساتھ بھی کوئی ہے؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سوال ہوا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں اب آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے آنے والے کیا ہی صالح ہیں یہاں یوسف علیہ السلام سے میں ملا اور انہیں سلام کیا انہوں نے فرمایا اچھی کشادہ جگہ آئے ہو میرے پیارے بھائی اور نبی ۔ یہاں سے ہم چوتھے آسمان پر آئے اس پر بھی یہی سوال ہوا کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبریل سوال ہوا آپ کے ساتھ اور کون صاحب ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پوچھا کیا انہیں لانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا جواب دیا کہ ہاں پھر آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے کیا ہی اچھے آنے والے ہیں یہاں میں ادریس علیہ السلام سے ملا اور سلام کیا انہوں نے فرمایا مرحبا بھائی اور نبی۔ یہاں سے ہم پانچویں آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبریل پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا گیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں آنے والے کیا ہی اچھے ہیں یہاں ہم ہارون علیہ السلام سے ملے اور میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے فرمایا مبارک میرے بھائی اور نبی تم اچھی کشادہ جگہ آئے۔ یہاں سے ہم چھٹے آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب؟ جواب دیا جبریل پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور بھی کوئی ہیں؟ کہا کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا تھا؟ کہا ہاں کہا اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں اچھے آنے والے یہاں میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا انہوں نے فرمایا میرے بھائی اور نبی اچھی کشادہ جگہ آئے جب میں وہاں سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا بزرگوار آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ یہ نوجوان جسے میرے بعد نبوت دی گئی اس کی امت میں سے جنت میں داخل ہونے والے میری امت کے جنت میں داخل ہونے والوں سے زیادہ ہوں گے۔ اس کے بعد ہم ساتویں آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب ہیں جواب دیا کہ جبریل علیہ السلام سوال ہوا کہ کوئی صاحب آپ کے ساتھ بھی ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا ہاں مرحبا اچھے آنے والے یہاں میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا انہوں نے فرمایا میرے بیٹے اور نبی مبارک اچھی کشادہ جگہ آئے ہو اس کے بعد مجھے بیت المعمور دکھایا گیا میں نے جبریل علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ یہ بیت المعمور ہے اس میں ستر ہزار فرشتے روزانہ نماز پڑھتے ہیں اور ایک مرتبہ پڑھ کر جو اس سے نکل جاتا ہے تو پھر کبھی داخل نہیں ہوتا اور مجھے سدر المنتہی بھی دکھایا گیا اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام بحر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں۔ اس کے بعد مجھ پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں میں جب واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا کر کے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی کی گئی ہیں انہوں نے فرمایا کہ انسانوں کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں بنی اسرائیل کا مجھے بڑا تجربہ ہو چکا ہے تمہاری امت بھی اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی اس لئے اپنے رب کی بارگاہ میں دوبارہ حاضری دو اور کچھ تخفیف کی درخواست کرو میں واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نمازیں چالیس وقت کی کر دیں پھر بھی موسیٰ علیہ السلام اپنی بات (یعنی تخفیف کرانے) پر مصر رہے اس مرتبہ تیس وقت کی رہ گئیں پھر انہوں نے وہی فرمایا تو اب بیس وقت کی اللہ تعالیٰ نے کر دیں پھر موسیٰ علیہ السلام نے وہی فرمایا اور اس مرتبہ بارگاہ رب العزت میں میری درخواست کی پیشی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دس کر دیا میں جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اب بھی انہوں نے کم کرانے کے لئے اپنا اصرار جاری رکھا اور اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی کر دیں اب میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دی ہیں اس مرتبہ بھی انہوں نے کم کرانے کا اصرار کیا میں نے کہا کہ اب تو میں اللہ تعالیٰ کے سپرد کر چکا پھر آواز آئی میں نے اپنا فریضہ (پانچ نمازوں کا) جاری کر دیا اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں ۔
وضاحت:
بیت معمور اس لیے کہتے ہیں کیونکہ کعبہ کے اردگرد عبادت کرنے والے فرشتوں کی کثرت اور ان کے آباد کرنے اور رونق بخشنے کی زیادتی ہے۔ ہجر مدینے کے قریب ایک بستی اور دیہات ہے اس سے مراد ہجر بحرین نہیں ہے۔ یہاں پر قلعے بنائے جاتے تھے۔ ایک قلے میں پانی کی ایک بڑی مشک سما جاتی تھی۔ اسے قلہ اس لیے کہا جاتا تھا کہ اسے اوپر کرنے اور اٹھانے میں ہلکا اور کم سمجھا جاتا تھا۔ (مرتبؒ) راوي حدیث: سیّدنا مالک بن صعصعہ انصاری رضی اللہ عنہ دینہ کے رہنے والے تھے اور بنو مازن سے تعلق تھا۔ بعد میں بصرہ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ معراج والی حدیث میں سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کے شیخ واستاذ ہیں۔ ان کی روایات بخاری، ترمذی، مسلم اور نسائی میں موجود ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 103
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 6 باب ذكر الملائكة»
حدیث نمبر: 104
104 صحيح حديث ابنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي؛ مُوسَى، رَجُلاً آدَمَ طُوَالاً جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ؛ وَرَأَيْتُ عَيسَى رَجُلاً مَرْبُوعًا، مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبِطَ الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ، وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللهُ إِيَّاهُ، فَلاَ تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا گندمی رنگ لمبا قد اور بال گھنگھریالے تھے ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنو کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا تھا درمیانہ قد میانہ جسم رنگ سرخی اور سفیدی لئے ہوئے اور سر کے بال سیدھے تھے (یعنی گھنگھریالے نہیں تھے) اور میں نے جہنم کے داروغہ کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی منجملہ ان آیات (نشانیوں) کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دکھائی تھیں (سورہ سجدہ۲۳ میں اسی کا ذکر ہے کہ) (اے نبی) ان سے ملاقات کے بارے میں آپ کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں (یعنی موسیٰ علیہ السلام سے ملنے میں)۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 104
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
حدیث نمبر: 105
105 صحيح حديثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ أَنَّهُ قَالَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ وَلكِنَّهُ قَالَ أَمَّا مُوسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي
مولانا داود راز
مجاہد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا تو سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ میں نے یہ تو نہیں سنا ہاں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 105
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 30 باب التلبية إذا انحدر في الوادي»
حدیث نمبر: 106
106 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِ إِبْرَاهيمَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ، فَقَالَ اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ أَخَذْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنو میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے ایسے ترو تازہ اور پاک صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی جبریل نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا (دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے) اگر اس کی بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 24 باب قول الله تعالى: (وهل أتاك حديث موسى) (وكلم الله موسى تكليما»