کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: جب بندہ دل میں نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی نیکی لکھ لی جاتی ہے اور اگر برائی کا ارادہ کرے تب تک نہیں لکھی جاتی جب تک اس پر عمل نہ کر لے
حدیث نمبر: 80
80 صحيح حديث أَبي هُرَىْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ ىَعْمَلُها تُكْتَبُ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثالِها، إِلى سَبْعِمائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُها تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِها
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے (یعنی نفاق اور ریا سے پاک کرے) تو ہر نیک کام جو وہ کرتا ہے اس کے عوض دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر برا کام جو کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے (جتنا کہ اس نے کیا ہے)۔
وضاحت:
حضرت امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر یہاں بھی اسلام وایمان کے ایک ہونے اور ان میں کمی وبیشی کے صحیح ہونے کے عقیدہ کا اثبات فرمایا ہے۔ اور بطور دلیل ان احادیث کو نقل فرمایا ہے جن سے صاف ظاہر ہے کہ ایک نیکی کا ثواب جب سات سو گنا تک لکھا جاتا ہے تو یقینا اس سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے اور کتاب وسنت کی رو سے یہی عقیدہ درست ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 80
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 31 باب حسن إسلام المرء»
حدیث نمبر: 81
81 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيما يَرْوي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: قَالَ إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَناتِ وَالسَّيِّئاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْها كَتَبَها اللهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِها فَعَمِلَها كَتَبَها اللهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَناتٍ، إِلى سَبْعِمائَةِ ضِعْفٍ، إِلى أَضْعافٍ كَثيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْها، كَتَبَها اللهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِها فَعَمِلَها كَتَبَها اللهُ لَهُ سَيِّئَةً واحِدَةً
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کر دیا ہے پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے یہاں دس گنے سے سات سو گنے تک نیکیاں لکھی ہیں اور اس سے بڑھا کر، اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے یہاں ایک نیکی لکھی ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لئے ایک برائی لکھی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 81
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 31 باب من هم بحسنة أو بسيئة»