کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے اور احسان کر کے جتانے اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے کی سخت حرمت کا بیان اور ان تین آدمیوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کو دکھ کا عذاب ہوگا
حدیث نمبر: 68
68 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةٌ لا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَليمٌ: رَجُلٌ كَانَ لَهُ فَضْلُ مَاءٍ بِالطَّريقِ فَمَنَعَهُ مِنِ ابْنِ السَّبيلِ؛ وَرَجُلٌ بايَعَ إِمامَهُ لا يُبايِعُهُ إِلاّ لِدُنْيا، فَإِنْ أَعْطاهُ مِنْها رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا سَخِطَ؛ وَرَجُلٌ أَقامَ سِلْعَتَهُ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقالَ وَاللهِ الَّذي لا إِلهَ غَيْرُهُ لَقَدْ أَعْطَيْتُ بِها كَذا وَكَذا، فَصَدَّقَهُ رَجُلٌ ثُمَّ قَرَأَ هذِهِ الآيَةَ (إِنَّ الَّذينَ يَشْتَرونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَنًا قَليلاً)
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تین طرح کے لوگ وہ ہوں گے جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر بھی نہیں اٹھائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور اس نے کسی مسافر کو اس کے استعمال سے روک دیا دوسرا وہ شخص جو کسی حاکم سے بیعت صرف دنیا کے لئے کرے کہ اگر وہ حاکم اسے کچھ دے تو وہ راضی رہے ورنہ خفا ہو جائے تیسرے وہ شخص جو اپنا (بیچنے کا) سامان عصر کے بعد لے کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں مجھے اس سامان کی قیمت اتنی اتنی مل رہی تھی اس پر ایک شخص نے اسے سچ سمجھا (اور اس کی بتائی ہوئی قیمت پر اس سامان کو خرید لیا) پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہیں۔ (آل عمران ۷۷)