کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: رخسار پر مارنا گریبان پھاڑنا اور جاہلیت کی سی باتیں کرنا حرام ہے
حدیث نمبر: 65
65 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعا بِدَعْوى الْجاهِلِيَّةِ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (کسی میت پر) اپنے رخسار پیٹے گریبان پھاڑے اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 65
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز 39 باب ليس منا من ضرب الخدود»
حدیث نمبر: 66
66 صحيح حديث أَبي مُوسَى رضي الله عنه وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَديدًا فَغُشِي عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ في حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْها شَيْئًا؛ فَلَمَّا أَفاقَ قَالَ أَنا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرئَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالْحالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی (ام عبداللہ بنت ابی رومہ) کی گود میں تھا (وہ ایک زور دار چیخ مار کر رونے لگی) ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ س وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی غم کے وقت) چلا کر رونے والی سر منڈوا دینے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 66
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 38 باب ما ينهى من الحلق عند المصيبة»