کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: ایمان نافرمانیوں سے کم ہوتا ہے اور نافرمان سے ایمان کی نفی کرنے سے اس کے کمال کی نفی مراد ہے
حدیث نمبر: 36
36 صحيح حديثُ أَبي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْني وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وزَادَ في رِوايَةٍ وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصارَهُمْ فِيها حِينَ يَنْتَهِبُها وَهُوَ مُؤْمِنٌ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا اسی طرح جب کوئی شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ایک روایت میں زیادتی ہے کہ کوئی شخص (دن دہاڑے) اگر کسی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔