اللؤلؤ والمرجان
كتاب البيوع— کتاب: خریدو فروخت کے مسائل
باب كراء الأرض بالطعام باب: کھانے کے عوض زمین کرایہ پر دینا
997 صحيح حديث ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا (قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَاوِي هذَا الْحَدِيثِ) قُلْتُ: مَا قَالَ رسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ قُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ قَالَ: لاَ تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَاَ أَوْ أَمْسِكُوهَا قَالَ رَافِعٌ، قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةًسیّدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا (بظاہر ذاتی) فائدہ تھا(حدیث کے راوی سیّدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا) اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو (بونے کے لئے) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں اسی طرح کھجور اور جو کے چند وسق پر یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو سیّدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا (آپ کا یہ فرمان) میں نے سنا اور مان لیا۔