حدیث نمبر: 973
973 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ (قَالَ الرَّاوِي) فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ: لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا
مولانا داود راز

سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (تجارتی) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو (ان کو منڈی میں آنے دو) اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے (راوی کہتے ہیں) کہ اس پر میں نے سیّدنا ابن عباس سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ دلال نہ بنے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البيوع / حدیث: 973
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 68 باب هل يبيع حاضر لباد بغير أجر وهل يُعينُهُ أو ينصحه»