اللؤلؤ والمرجان
كتاب الايمان— کتاب: ایمان کا بیان
باب بيان الزمن الذي لا يقبل فيه الإيمان باب: اس زمانے کا بیان جب ایمان مقبول نہ ہوگا
97 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، وَذَلِكَ حِينَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا ثُمَّ قَرَأَ الآيةسیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو لے جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی کیا یہ اس بات کے منتظر ہیں؟ کہ ان کے پاس فرشتے آئیں؟ یا تیرا رب آئے؟ یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں؟ جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی شخص کو جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا اس کا ایمان مطلق فائدہ نہ دے گا نہ اسے جس نے اپنے ایان کی حالت میں نیکیاں نہ کی ہوں کہدے کہ اچھا منتظر رہو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔ (الانعام ۱۵۸)