اللؤلؤ والمرجان
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل
باب بيان أن تخيير امرأته لا يكون طلاقا إِلا بالنية باب: عورت کو اختیار دینے سے طلاق نہیں ہوتی مگر جب نیت ہو
942 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَةُ (تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكَ) فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ لَهُ: إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لاَ أُرِيدُ، يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًامعاذہ رحمہ اللہ روایت کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی کہ ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے (الاحزاب۵۱) اگر (ازواج مطہرات) میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جس کی باری ہوتی اس سے اجازت لیتے تھے (معاذہ نے بیان کیا کہ) میں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا کہ ایسی صورت میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہ عرض کر دیتی تھی کہ یا رسول اللہ اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں اپنی باری کا کسی دوسرے پر ایثار نہیں کر سکتی۔