اللؤلؤ والمرجان
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے مسائل
باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها وأنه لو خالف وقع الطلاق ويؤمر برجعتها باب: حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو طلاق ہو جائے گی لیکن اسے رجوع کا حکم دیا جائے گا
937 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ؛ فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُطَلِّقَ مِنْ قُبُلِ عِدَّتِهَا؛ قُلْتُ: فَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَیونس بن جبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیّدنا ابن عمر سے (حالت حیض میں طلاق کے بارے) پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عمر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس وقت وہ حالت حیض میں تھیں پھر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر اپنی بیوی سے رجوع کر لیں پھر جب طلاق کا صحیح وقت آئے تو طلاق دیں (یونس نے بیان کیا کہ ابن عمر سے) میں نے پوچھا کہ کیا اس طلاق کا بھی شمار ہوا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر کوئی طلاق دینے والا شرع کے احکام بجا لانے سے عاجز ہو یا احمق بے وقوف (تو کیا طلاق نہیں پڑے گی)۔