حدیث نمبر: 937
937 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ؛ فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُطَلِّقَ مِنْ قُبُلِ عِدَّتِهَا؛ قُلْتُ: فَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ
مولانا داود راز

یونس بن جبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیّدنا ابن عمر سے (حالت حیض میں طلاق کے بارے) پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عمر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس وقت وہ حالت حیض میں تھیں پھر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر اپنی بیوی سے رجوع کر لیں پھر جب طلاق کا صحیح وقت آئے تو طلاق دیں (یونس نے بیان کیا کہ ابن عمر سے) میں نے پوچھا کہ کیا اس طلاق کا بھی شمار ہوا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر کوئی طلاق دینے والا شرع کے احکام بجا لانے سے عاجز ہو یا احمق بے وقوف (تو کیا طلاق نہیں پڑے گی)۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطلاق / حدیث: 937
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 45 باب مراجعة الحائض»