حدیث نمبر: 93
93 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلاَّ أُعْطِيَ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
مولانا داود راز

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو ایسے ایسے معجزات عطا کیے گئے کہ (انہیں دیکھ کر) ان پر ایمان لائیں (بعد کے زمانے میں) ان کا کوئی اثر نہیں رہا اور مجھے جو معجزہ دیا گیا وہ وحی (قرآن) ہے۔ جو اللہ نے مجھ پر نازل کی ہے۔ (اس کا اثر قیامت تک رہے گا) اس لیے مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے تابعدار لوگ دیگر پیغمبروں کے تابعداروں سے زیادہ ہوں گے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 93
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 1 باب كيف نزول الوحي وأول ما نزل»