اللؤلؤ والمرجان
كتاب الايمان— کتاب: ایمان کا بیان
باب زيادة طمأنينة بتظاهر الأَدلة باب: جب دلیلیں خوب پہنچ جائیں تو دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے
92 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: (رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤمِنْ قَالَ بَلَى وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي) وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ؛ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طولَ مَا لَبِثَ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَسیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ میرے رب مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں لیکن یہ صرف اس لئے تا کہ میرے دل کو زیادہ اطمینان ہو جائے اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے کہ وہ زبردست رکن (یعنی خداوند کریم) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کی بات ضرور مان لیتا۔