اللؤلؤ والمرجان
كتاب الايمان— کتاب: ایمان کا بیان
باب تألف قلب من يخاف على إيمانه لضعفه والنهي عن القطع بالإيمان من غير دليل قاطع باب: جو شخص ضعیف الایمان ہو اس کی دلجوئی کرنا اور جب تک ایمان کا یقین نہ ہو کسی شخص کو مومن نہ کہنا
91 صحيح حديث سَعْدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ: أَوْ مُسْلِمًا فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤمِنًا فَقَالَ: أَوْ مُسْلِمًا فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي، وَعَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ: يَا سَعْدُ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ فِي النَّارِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے (وہ کہتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں آپ نے فرمایا کہ مومن یا مسلمان؟ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر اس کے متعلق میرے خیالات نے مجھے دوبارہ بولنے پر مجبور کیا اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ اللہ کی قسم وہ میرے مشاہدے کے مطابق مومن ہے آپ نے فرمایا مومن یا مسلمان؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر ایک بار پھر اپنی معلومات کی وجہ سے پہلی بات کو دہرانے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا جواب دہرایا پھر آپ نے فرمایا کہ اے سعد باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے (پھر بھی میں اسے نظر انداز کر کے) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ (وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے) اور اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے۔