حدیث نمبر: 89
89 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا
مولانا داود راز

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔

وضاحت:
یعنی جس طرح سانپ اپنے سوراخ اور بل سے نکلتا ہے اور گزران زندگی طلب کرتا ہے پھر جب اسے کوئی دیکھ لیتا ہے تو اپنے بل کی طرف لوٹ جاتا ہے اور سکڑ جاتا ہے ایسے ہی ایمان مدینہ میں منتشر ہوا اور پھیلا۔ تو ہر مومن کو اس کا نفس مدینے والوں سے محبت کی وجہ سے اس طرف کھینچتا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مدینہ سے محبت تھی۔ (مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 89
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 6 باب الإيمان يأرز إلى المدينة»