حدیث نمبر: 837
837 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ؛ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ قِيلَ: نَعَمْ قَالَ: فَانْفِرِى
مولانا داود راز

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ مکہ سے روانگی کی رات سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے رکنے کا باعث بن جاؤں گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا عقری حلقی کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا آپ نے فرمایا کہ پھر چلو۔

وضاحت:
عقریٰ کا لفظی ترجمہ بانجھ اور حلقی کا سرمنڈی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ محبت یہ لفظ استعمال فرمائے۔ یہ بول چال کا عام محاورہ ہے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 837
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 151 باب الإدلاج من المحصّب»