اللؤلؤ والمرجان
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل
باب استحباب بعث الهدي إِلى الحرم لمن لا يريد الذهاب بنفسه، واستحباب تقليده وفتل القلائد، وأن باعثه لا يصير محرما ولا يحرم عليه شيء بذلك باب: قربانی کو حرم میں بھیجنا مستحب ہے کہ خود نہ جا رہا ہو اور قربانی کو ہار پہنانا بھی مستحب ہے اور بھیجنے والا محرم کے حکم میں نہیں ہوگا کہ اس پر کوئی چیز حرام ہو
حدیث نمبر: 831
831 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا؛ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُمولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے پھر آپ نے انہیں ہار پہنایا اشعار کیا ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لئے جو چیزیں حلال تھیں وہ (احرام سے پہلے صرف ہدی سے) حرام نہیں ہوئیں۔