اللؤلؤ والمرجان
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل
باب رمي جمرة العقبة من بطن الوادي وتكون مكة عن يساره ويكبر مع كل حصاة باب: جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 816
816 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ، هذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمولانا داود راز
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب (بطن وادی) میں کھڑے ہو کر کنکری ماری، تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقہ سے کنکری مارتے ہیں اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہی (بطن وادی) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے (رمی کرتے وقت) جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔