حدیث نمبر: 808
808 صحيح حديث أُسَامَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
مولانا داود راز

عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو (زیادہ) تیز چلتے تھے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 808
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 92 باب السير إذا دفع من عرفة»