حدیث نمبر: 804
804 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ َلانَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ: نَعَمْ َلأَنَّهَا كَانَتْ مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلَيَّةِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
مولانا داود راز

حضرت عاصم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں کیونکہ یہ عہد جاہلیت کا شعار تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے (البقرہ ۱۵۸)

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 804
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 80 باب ما جاء في السعى بين الصفا والمروة»