اللؤلؤ والمرجان
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل
باب استحباب المبيت بذي طوى عند إِرادة دخول مكة والاغتسال لدخولها، ودخولها نهارا باب: ذی طویٰ میں رات کو رہنا اور نہا کر دن کو مکہ میں جانا مستحب ہے
حدیث نمبر: 792
792 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَنْزِلِ بِذِي طُوًى، وَيَبِيتُ حَتَّى يُصْبِحَ، يُصَلِّي الصُّبْحَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، وَمُصلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، وَلكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍمولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ جاتے ہوئے مقام ذی طوی میں قیام فرماتے اور رات یہیں گذارا کرتے تھے اور صبح ہوتی تو نماز فجر یہیں پڑھتے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو اب وہاں بنی ہوئی ہے بلکہ اس سے نیچے ایک بڑا ٹیلا تھا ۔