اللؤلؤ والمرجان
كتاب الايمان— کتاب: ایمان کا بیان
باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إِله إِلا الله باب: کافر کو لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے
62 صحيح حديث أُسامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنهما قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى الْحُرَقَةِ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصارِ رَجُلاً مِنْهُمْ، فَلَمّا غَشِينَاهُ قَالَ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ، فَكَفَّ الأَنْصارِيُّ عَنْهُ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحي حَتّى قَتَلْتُهُ؛ فَلَمّا قَدِمْنَا، بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقالَ: يا أُسامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَما قَالَ لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ، قُلْتُ كَانَ مُتَعَوِّذًا؛ فَما زَالَ يُكَرِّرُها حَتّى تَمَنَّيْتُ أَنّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِسیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص (مرداس بن عمرو) سے بھڑ گئے جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگا انصاری تو فورا ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا جب ہم لوٹے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اسامہ کیا اس کے لا الہ الا اللہ کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا کہ قتل سے بچنا چاہتا تھا (اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا) آپ بار بار یہی فرماتے رہے (کیا تم نے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا) حتی کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا۔