حدیث نمبر: 525
525 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً نحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَويلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ ركوعًا طَويلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويِلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَوِيلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَعْكَعْتَ؛ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُودًا، وَلَوْ أَصَبْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
مولانا داود راز

سیّدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے نماز پڑھی تھی آپ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ اتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکتی ہے پھر آپ نے رکوع بھی لمبا کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر آپ سجدہ میں گئے سجدہ سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا لیکن پہلے قیام کے مقابلے میں کم لمبا تھا پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ رکوع بھی پہلے رکوع کے مقابلہ میں کم تھا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پھر آپ بہت دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام بھی پہلے سے مختصر تھا پھر (چوتھا) رکوع کیا یہ بھی بہت لمبا تھا لیکن پہلے سے کچھ کم پھر آپ نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا اس کے بعد آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا اس لئے جب تم کو معلوم ہو کہ گرہن لگ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم نے دیکھا کہ آپ (نماز میں) اپنی جگہ سے کچھ آگے بڑھے اور پھر اس کے بعد پیچھے ہٹ گئے آپ نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی اور اس کا ایک خوشہ توڑنا چاہا تھا اگر میں اسے توڑ سکتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی میں نے اس سے زیادہ بھیانک منظر کبھی نہیں دیکھا میں نے دیکھا اس میں عورتیں زیادہ ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے پوچھا گیا کیا اللہ تعالیٰ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ شوہر کا اور احسان کا انکار کرتی ہیں زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آ گئی تو فوراً یہی کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔

وضاحت:
بعض نے کہا کہ آپ نے اصل جنت اور دوزخ کو دیکھا کہ پردہ درمیان سے اٹھ گیا یا یہ مراد ہے کہ دوزخ اور جنت کا ایک ایک ٹکڑا بطور نمونہ آپ کو دکھلایا گیا۔ بہر حال یہ عالم برزخ کی چیز ہے۔ جس طرح حدیث میں آگیا ہمارا ایمان ہے۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة الكسوف / حدیث: 525
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 9 باب صلاة الكسوف في جماعة»