حدیث نمبر: 52
52 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلى اللهِ قَالَ: الصَّلاةُ عَلى وَقْتِها قَالَ: ثُمَّ أَيّ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوالِدَيْنِ قَالَ: ثُمَّ أَيّ قَالَ: الْجِهادُ في سَبيلِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
مولانا داود راز

سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا پھر پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ سیّدنا ابن مسعود نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے (لیکن میں نے بطور ادب کے خاموشی اختیار کی)۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 52
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 5 باب فضل الصلاة لوقتها»