اللؤلؤ والمرجان
كتاب صلاة العيدين— کتاب: نماز عیدین کا بیان
باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد باب: عید کے دن میں مباح کھیل کھیلنا جائز ہے
حدیث نمبر: 514
514 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا، فَقَالَ: دَعْهُمْ يَا عُمَرُمولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا لیکن آپ نے فرمایا عمر انہیں کھیل دکھانے دو۔