حدیث نمبر: 50
50 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ فَقَالَ: إِيمانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ قِيلَ: ثُمَّ ماذا قَالَ: الْجِهادُ في سَبيلِ اللهِ قِيلَ: ثُمَّ ماذا قَالَ: حَجٌّ مَبْرورٌ
مولانا داود راز

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا کہا گیا اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کہا گیا پھر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا حج مبرور۔

وضاحت:
حج مبرور سے خالص حج مراد ہے کہ جس میں ریا اور نمود نمائش کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ حج کے بعد آدمی گناہوں سے توبہ کرے اور پھر گناہوں میں مبتلا نہ ہو۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 50
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 18 باب من قال إن الإيمان هو العمل»