486 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَمَا هُوَ قَائمٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرينَ الأَوَّلَينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هذِهِ قَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذينَ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِسیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی اصحاب مہاجرین میں سے ایک بزرگ تشریف لائے (یعنی سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا بھلا یہ کون سا وقت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں مشغول ہو گیا تھا اور گھر واپس آتے ہی اذان کی آواز سنی اس لئے میں وضو سے زیادہ اور کچھ (غسل) نہ کر سکا سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا (صرف) وضو ہی؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے حکم فرماتے تھے۔