اللؤلؤ والمرجان
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب ما يتعلق بالقراءات باب: قراء ت کا بیان
472 صحيح حديث أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ إِبْرَاهيمَ، قَالَ: قَدِمَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَطَلَبَهُمْ فَوَجَدَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَقْرَأُ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُلُّنَا؛ قَالَ: فَأَيُّكُمْ أَحْفَظُ فَأَشَارُوا إِلَى عَلْقَمَةَ؛ قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى قَالَ عَلْقَمَةُ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى؛ قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هكَذَا، وَهؤلاَءِ يُرِيدُونِي عَلَى أَنْ أَقْرَأَ (وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى) ، وَاللهِ لاَ أُتَابِعُهُمْابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کچھ شاگرد سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں (شام) آئے سیّدنا ابودرداء نے انہیں تلاش کیا اور پا لیا پھر ان سے پوچھا کہ تم میں کون سیّدنا عبداللہ بن مسعود کی قرات کے مطابق قرات کر سکتا ہے؟ شاگردوں نے کہا کہ ہم سب کر سکتے ہیں پھر پوچھا کسے ان کی قرات زیادہ محفوظ ہے؟ سب نے حضرت علقمہ رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کیا انہوں نے دریافت کیا کہ انہیں سورہ واللیل اذا یغشی کی قرات کرتے کس طرح سنا ہے؟ علقمہ نے کہا کہ والذکر والانثی (بغیر ماخلق کے) کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح قرات کرتے ہوئے سنا ہے لیکن یہ لوگ (یعنی شام والے) چاہتے ہیں کہ میں وما خلق الذکر والانثی پڑھوں اللہ کی قسم میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔