اللؤلؤ والمرجان
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب بيان أن القرآن على سبعة أحرف وبيان معناه باب: قرآن کا سات لہجوں میں اترنا اور اس کا مفہوم
468 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَة الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، وَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هذَا يَقْرَأُ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا؛ فَقَالَ لِي: أَرْسِلْهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: اقْرَأْ فَقَرَأَ، قَالَ: هكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُسیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان ایک دفعہ اس قرات سے پڑھتے سنی جو اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا حالانکہ یہ قرات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی قریب تھا کہ میں انہیں پکڑ لیتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی کہ وہ (نماز سے) فارغ ہو لیں اس کے بعد میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا میں نے آپ سے کہا کہ میں نے انہیں اس قرات کے خلاف پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے انہیں چھوڑ دے پھر ان سے فرمایا کہ اچھا اب تم قرات سناؤ انہوں نے اپنی وہی قرات سنائی آپ نے فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی اس کے بعد مجھ سے آپ نے فرمایا کہ اب تم بھی پڑھومیں نے بھی پڑھ کر سنایا آپ نے اس پر بھی فرمایا اسی طرح نازل ہوئی تھی قرآن سات قراتوں میں نازل ہوا ہے تم کو جس میں آسانی ہو اسی طرح سے پڑھ لیا کرو۔