اللؤلؤ والمرجان
كتاب الايمان— کتاب: ایمان کا بیان
باب بيان كفر من قال مطرنا بالنوء باب: اس شخص کا کافر بن جانا جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش سے ہوئی
46 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ خالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّى لَنا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ بالحُدَيْبِيَةِ عَلى إِثْرِ سَماءٍ كانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلى النَّاسِ فَقالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذا قَالَ رَبُّكُمْ قَالوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبادي مُؤْمِنٌ بِيَ وَكافِرٌ، فَأَمّا مَنْ قَالَ مُطِرْنا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِيَ وَكافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمّا مَنْ قَالَ مُطِرْنا بِنَوْءِ كَذا وَكَذا فَذَلِكَ كافِرٌ بِيَ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِسیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے اور کچھ میرے منکر ہوئے جس نے کہا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلاں جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔