اللؤلؤ والمرجان
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب نزول السكينة لقراءة القرآن باب: قراء ت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا
458 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ الدَّابَّةُ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَسَلَّمَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ غَشِيَتْهُ؛ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ اقْرَأْ فُلاَن فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِسیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی (سیّدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ) نے (نماز میں) سورہ کہف کی تلاوت کی اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا (سیّدنا اسید رضی اللہ عنہ نے ادھر خیال نہ کیا اس کو خدا کے سپرد کیا) اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھتا ہی رہتا کیوں کہ یہ سکینت ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی(یا یہ کہا) نازل ہو رہی تھی۔