حدیث نمبر: 443
443 صحيح حديث عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَيْلَةً، فَقَالَ: أَلاَ تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: (وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً)
مولانا داود راز

سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور سیدہ فاطمہ کے پاس آئے آپ نے فرمایا کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ہماری روحیں خدا کے قبضے میں ہیں جب چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا ہماری اس عرض پر آپ واپس تشریف لے گئے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ ران پر ہاتھ مار کر (سورہ کہف کی یہ آیت) پڑھ رہے تھے آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ (کہف۵۴)

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 443
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 5 باب تحريض النبي صلی اللہ علیہ وسلم على صلاة الليل والنوافل»