حدیث نمبر: 431
431 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وانْتَهى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
مولانا داود راز

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی ہے اور اخیر میں آپ کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔

وضاحت:
اس کی مزید تفسیر وہ حدیث کرتی ہے جو ابو داؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں بھی وتر پڑھے اور درمیان میں بھی اور آخر میں بھی۔ لیکن موت کے قریب سحری کے وقت پڑھتے تھے۔ یہاں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آپ کا ابتدائی اور درمیانی وقت کا عمل جواز کے بیان کے لیے ہو اور آخر وقت کا عمل فضیلت بتانے کے لیے ہو۔ (مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 431
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 14 كتاب الوتر: 2 باب ساعات الوتر»