حدیث نمبر: 401
401 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَة سَأَلَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحقَ قَالَ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا قَالَ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا
مولانا داود راز

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر دو دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے یحیی بن ابی اسحاق کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ آپ کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرتے تھے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 401
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 1 باب ما جاء في التقصير وكم يقيم حتى يقصر»