اللؤلؤ والمرجان
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إِذا نزلت بالمسلمين نازلة باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو بلند آواز سے قنوت پڑھنا مستحب ہے
394 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رضي الله عنه، عَنِ الْقُنُوتِ، قَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ فَقُلْتُ: إِنَّ فُلاَنًا يَزْعُمُ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فقال: كَذَبَ؛ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: بَعَثَ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ (يَشُكُّ فِيهِ) مِنَ الْقُرَّاءِ إِلى أَنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَعَرَضَ لَهُمْ هؤُلاَءِ، فَقَتَلُوهُمْ؛ وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَمَا رَأَيْتُهُ وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْحضرت عاصم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہیے میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب (محمد بن سیرین) تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ انہوں نے غلط کہا ہے پھر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت کی تھی اور آپ نے اس میں قبیلہ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بد دعا کی تھی انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت (راوی کو شک تھا) مشرکین کے پاس بھیجی تھی لیکن یہ بنی سلیم کے لوگ (جن کا سردار عامر بن طفیل تھا) ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ تھا (لیکن انہوں نے دغا دی) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے۔