حدیث نمبر: 331
331 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا
مولانا داود راز

سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر کہا تھا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو کھائے ہوئے ہو، اسے ہماری مسجد میں نہ آنا چاہیے۔

وضاحت:
کچا لہسن یا کچا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس کے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔ سگریٹ نوشوں کے لیے بھی لازم ہے کہ منہ صاف کر کے بدبودور کر کے مسواک سے منہ کو رگڑ رگڑ کر مسجد میں آئیں۔ ان بدبودار چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لہسن اور پیاز کو پکا کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 331
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث»