حدیث نمبر: 313
313 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللهُ أَعْلَمُ بِهِ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الأُولَى؛ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِنَّمَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ
مولانا داود راز

سیّدنا جابر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک ضرورت کے لئے (غزوہ بنی مصطلق میں) بھیجا۔ میں جا کر واپس آیا میں نے کام پورا کر دیا تھا پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس لئے خفا ہیں کہ میں دیر سے آیا ہوں میں نے پھر دوبارہ سلام کیا اور جب اس مرتبہ بھی آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو اب میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ خیال آیا پھر میں نے (تیسری مرتبہ) سلام کیا اور اب آپ نے جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے دوبار جو میں نے جواب نہ دیا تو اس وجہ سے تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور آپ اس وقت اپنی اونٹنی پر تھے اور اس کا رخ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 313
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 21 كتاب العمل في الصلاة: 15 باب لا يردّ السلام في الصلاة»