اللؤلؤ والمرجان
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب النهي عن بناء المساجد على القبور باب: قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 308
308 صحيح حديث عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ برَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةَ لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ، وَهُوَ كَذلِكَ: لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوامولانا داود راز
سیدہ عائشہ اور سیّدنا عبداللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں اپنی چادر کو بار بار چہرے پر ڈالتے جب کچھ افاقہ ہوتا تو چادر ہٹا دیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا یہود و نصاری پر خدا کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا آپ یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔