حدیث نمبر: 299
299 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَكَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاس كَافَّةً، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ
مولانا داود راز

سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء کو نہیں دی گئی تھیں پہلی یہ کہ ایک مہینے کی راہ سے میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی دوسری یہ کہ میرے لئے تمام زمین میں نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے کی اجازت ہے اس لئے میری امت کے جس آدمی کی نماز کا وقت (جہاں بھی) آ جائے اسے (وہیں) نماز پڑھ لینی چاہئے تیسری یہ کہ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا چوتھی یہ کہ پہلے انبیاء خاص اپنی قوموں کی ہدایت کے لئے بھیجے جاتے تھے لیکن مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے پانچویں یہ کہ مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 299
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 56 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم جعلت لي الأرض مسجدًا وطهورًا»