حدیث نمبر: 22
22 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ في الْحَياءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُ فَإِنَّ الْحَياءَ مِنَ الإِيمانِ
مولانا داود راز

سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ انصاری اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو؟ آپ نے اس (انصاری) سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیا بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔

وضاحت:
حیا اور شرم انسان کا ایک فطری نیک جذبہ ہے۔ جو اسے بے حیائی سے روک دیتا ہے اور اس کے طفیل وہ بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے بچ جاتا ہے۔ حیا سے مراد وہ بے جا شرم نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان کی جرات عمل ہی مفقود ہو جائے اور وہ اپنے ضروری فرائض کی ادائیگی میں بھی شرم وحیا کا بہانہ تلاش کرنے لگے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 22
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 16 باب الحياء من الإيمان»