حدیث نمبر: 209
209 صحيح حديث أَبِي الْجُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحرِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ
مولانا داود راز

سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر بن عبداللہ نے کہا کہ میں اور حضرت میمونہ زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام عبداللہ بن یسار ابو جھیم بن حارث صمہ انصاری (صحابی) کے پاس آئے تو ابوالجھیم نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیئر جمل کی طرف سے تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک شخص آپ کو ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا (یعنی خود ابو جھیم نے) لیکن آپ نے جواب نہیں دیا پھر آپ دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔

وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا ابو جہیم بن حارث الانصاری رضی اللہ عنہ بی بن کعب کے بھانجے ہیں اور معروف صحابی ہیں۔ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ تک زندہ رہے۔ ان کا نام عبداللہ تھا۔ بعض نے ان کا نام حارث بتایا ہے اور کہا ہے کہ ابو جہیم اور حارث کے درمیان ابن کا لفظ غلط واقع ہوا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 209
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم في الحضر إذا لم يجد الماء»