حدیث نمبر: 208
208 صحيح حديثُ عَمَّارٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؛ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ؛ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
مولانا داود راز

ایک شخص سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی نہیں ملا (تو میں اب کیا کروں) اس پر سیّدنا عمار بن یاسر نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے ہم دونوں جنبی ہو گئے آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ تجھے بس اتنا ہی کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور دونوں ہاتھوں سے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 208
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم: 4 باب المتيمم هل ينفخ فيهما»