اللؤلؤ والمرجان
كتاب الحيض— کتاب: حیض کے مسائل
باب نسخ الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کا واجب ہونا منسوخ ہے
حدیث نمبر: 201
201 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْمولانا داود راز
سیّدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بکری کے شانے سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو امیہ ضمری ہے احد کے دن اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اکیلے ایک سریہ پر بھیجا اور نجاشی کی طرف بطور قاصد بھی بھیجا تھا۔ بیئر معونہ کے معرکہ میں گرفتار ہوئے اور عامر بن طفیل نے انہیں قید کر دیا تھا۔ اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ کر انہیں آزاد کر دیا تھا۔ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۶۰ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔