حدیث نمبر: 1895
1895 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا، مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ: أَيُّ آيَةٍ قَالَ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا) قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ، يَوْمَ جُمُعَةٍ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ایک دفعہ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کی کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے آپ پڑھتے ہیں۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۂ مائدہ کی یہ آیت کہ) ’’آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمھارے لیے دین اسلام پسند کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔

وضاحت:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے۔ اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1895
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 33 باب زيادة الإيمان ونقصانه»