اللؤلؤ والمرجان
كتاب الفتن وأشراط الساعة— کتاب: فتنوں اور قیامت کی نشانیوں کا بیان
باب ذكر ابن صياد باب: ابن صیاد کا بیان
1853 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّاسِ، فَأَثْنى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنِّي أُنْذِرُ كُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: آپ نے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی، جو اس کی شان کے لائق تھی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا، اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں اس کے بارہ میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔